ابنا: رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر لاریجانی نے آج تنزانیا کے سابق صدر علی حسن موینی، اور زنگبار کی پارلیمٹ کے اسپیکرامیر پاندو کافیچو سے ملاقات میں فلسطینی عوام کو ان کے حقوق حاصل کرنے سے روکنے کے لئے بڑی طاقتوں کی پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طاقتیں، مسئلہ فلسطین کے بارے میں رنگارنگ سیاسی منصوبےپیش کر کےسیاسی دھوکہ بازی اورمظلوم فلسطینی عوام کےحقوق کوپامال کرنےکی کوشش کر رہی ہيں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلمینٹ کے اسپیکر نےاسلامی بیداری کو فلسطینی عوام کےحقوق کی بحالی کےلئےعلاقےکی قوموں کی جدوجہد کی راہ میں نیامرحلہ قراردیا۔
تنزانیا کے سابق صدر علی حسن موینی نے اس قسم کے اجلاسوں کوصہیونزم کی ماہیت کوسمجھنے کے لئے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا کےعوام کوصہیونزم کے خطرے کے سامنے متحد ہو جانا چاہئے۔
زنگبارکی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی اس ملاقات میں انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں بین الاقوامی اجلاس کےانعقاد کوسراہا۔
ڈاکٹر لاریجانی نےافغانستان کی پارلیمنٹ کےاسپیکر عبدالرؤف ابراہیمی اوراس ملک کی سینٹ کے چیئرمین فضل ہادی مسلم یار سے ملاقات میں تاکیدکی کہ فلسطین عالم اسلام کا پہلا مسئلہ ہے۔
ڈاکٹر لاریجانی نے اس ملاقات میں فلسطین کانفرنس میں پارلیمانی وفد کی موجودگی کوسراہتے ہوئے کہا کہ صرف اسلامی ممالک کی مدد سے ہی مستقبل قریب ميں فلسطینی عوام کےمسائل حل کی امید کی جا سکتی ہے۔
افغانستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکرعبدالرؤف ابراہیمی نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے تہران اجلاس منعقد کر کے فلسطین کی مظلوم قوم اور مسلم امہ کے حق کے سلسلےمیں اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔
...........
/169